Importance of Library
- burewala chak 329-EB
- Mar 28, 2020
- 3 min read
Updated: Mar 31, 2021
23 مارچ کو ہم تین دوست ضلع وہاڑی کی طرف بذریعہ کار روانہ ہوئے۔ کوئی 60 ٪ موٹروے کا سفرتھا۔ ہم ٹوبہ ٹیک سنگھ، کمالیہ، بورے والا، چیچہ وطنی وغیرہ سے گزرتے وہاڑی پہنچ گے۔ یہ کوئی 8 گھنٹے کا سفربنتا ہے۔ ہرسفرآپ کے سامنے کچھ حیران کن غیرمتوقع مناظرسامنے لے آتا ہے۔ ہم صرف اتنا جانتے تھے، کہ اس علاقے میں کسی بندے کی پرسنل لائبریری ہے، میزبان نے نہ صرف لائبریری کے مالک کوہمارے آنے سے آگاہ کردیا تھا، ہمیں تھری ان ون گائیڈ/سیکورٹی گارڈ/ڈرائیور بھی دے دیا۔ میلسی وہاڑی کی تحصیل ہے۔ اوراس کے نواح میں کہیں یہ لائبریری تھی۔ فاصلہ ہماری توقع سے زیادہ دورہوتا جارہا تھا۔ جب دو ڈھائی گھنٹوں کی مسافت ہوچکی، توہمارے زہن میں وسوسے اٹھنے لگے، کہ محض ایک لائبریری کودیکھنے اتنی دورکسی گاوں کی طرف جارہے ہیں۔ آخرکیا کسی کی پرسنل لائبریری اتنی مشقت کی اہل بھی ہوسکتی ہے؟ مین روڈ سے اترکرہم کھیتوں کی ایک تنگ گزرگاہ پرچڑھ گے۔ لیکن راستہ پکا صاف ستھرا کارپیٹڈ تھا۔ اس کے اندربھی کافی کلومیٹرکارچلانی پڑی۔ بڑی مشکل سے صبرکا پیمانہ ٹوٹا اورسامنے گنبدوں والی ایک سفید عمارت نظرآئی۔۔ بتایا گیا یہی لائبریری ہے۔ صدردروازے سے اندرگے، تو نہائت خوبصورت ایک وسیع پارک عمارت کو گھیرے ہوئے تھا۔ ہماری نظروں کوتواس پہلے منظرنے ہی کھیچ لیا۔۔ ہمارے خدشات کودھچکا لگا۔۔کہ یہ کوئی عام سی چیز نہیں ہے۔ واقعی کچھ خاص ہمارے سامنے آنے والا ہے۔ لائبریری کی عمارت کے اندرجانے پرجوتے اتارنے کی ہدائت تھی۔ جونہی ہم لائبریری کے اندرپاوں رکھا۔ واقعی سامنے ایک خوبصورت صاف ستھرا قرینے سے سجا منظرسامنے آیا۔۔ دیہاتی قسم کا ایک لائبریرین ہمارے پاس آ گیا۔۔ جوہمیں لائبریری کے ایک ایک ہال میں لے جاکردکھانے لگا۔۔ ہم جس ہال میں قدم رکھتے۔۔ کتابوں کے اسٹاک اور موضوعات کودیکھ کرورطہ حیرت میں ڈوب جاتے۔۔ اس لائبریری کے 8 ہال ہیں۔ صاف ستھرا اورروشن ماحول ہے۔ کوئی تین لاکھ کے لگ بھگ کتابیں،قدیم مخطوطے ہیں۔پھر کیا تھا، ہم سب سفرکی تھکن بھول گے۔۔ لائبریری کے خزانوں کودیکھ دیکھ کرحیران بھی اورخوش بھی۔۔ یہ کونسی فیملی ہے۔ جس نے کروڑوں کی جائداد اس خزانے پرانتہائی پیارسے لوٹا دی ہے۔ پارک کے انتہائی خوبصورت صاف سھترے میں ماحول میں لائبریری کی عمارت ایک سفید لباس مین دلہن لگتی ہے۔ مرکزی عمارت 21 ہزارسکوئیر فٹ رقبے پرہے۔ اور5 ایکڑکا تین طرف پارک ہے۔ ہرچیز well maintained ہے۔ اس کا نام "مسعود جھنڈر ریسرچ لائبریری" ہے۔ اس دوران ہمیں خوش آمدید کہنے لائبریری کے بزرگ سے 'مالک' محترم غلام احمد تشریف لائے۔ انہوں نے ہماری خاطرتواضع کی۔ لائبریری کے اندرہی نہائت نفاست سے سجا ڈرائنگ روم ٹائپ کا کشادہ کمرہ ہے۔ شروع میں توغلام احمد صاحب نے کسرنفسی سے کام لیا۔۔ لیکن اتنا مشکل، اتنا عظیم علمی کام اورذخیرہ کوئی عام سا خاندان یا ایک فرد نہیں کرسکتا تھا۔ جب تک پیچھے کتابوں کی جنونیت کی حد تک محبت نہ ہو۔۔ اب تیسری نسل آ چکی ہے۔ ایک نسل بھی کتابوں کے عشق سے بے بہرہ ہوئی۔۔تویہ زندہ و جاوید علم کا خزانہ اپنی بربادی کی طرف جاسکتا ہے۔ لیکن جلد ہی غلام احمد جن کی عمرکوئی 70 سے زیادہ ہوگی۔ سادگی سے مگرخوبصورت علمی ، فکری باتیں کرنے لگ گے۔ وہ جانتے تھے، کتابیں کیا چیز ہوتی ہیں۔ اوران سے عشق کیا معنی رکھتا ہے۔ میرا خیال ہے ، اس سے زیادہ شانداروقیع پرسنل لائبریری شائد پاکستان میں کہیں اورہو۔ جو پنجاب کے دوردراز ایک چھوٹے سے گاوں میں ہے۔ ہے ناں آٹھواں عجوبہ





Comments